Press Release

TCCF

مظفرآباد

وطن سے محبت اور اپنے ہم وطنوں کی خدمت کا جذبہ رکھنے والے کشمیری تارکینِ وطن نے دیارِ غیر میں رہتے ہوئے اپنی مٹی سے وفا کی نئی مثال قائم کر دی۔
کشمیری تارکینِ وطن نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ اگر وطن سے محبت اور اپنی قوم سے خلوص ہو تو سمندر پار بیٹھ کر بھی علاقے کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔ امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک میں مقیم کشمیری تارکینِ وطن اپنی محنت کی کمائی کا بڑا حصہ اپنے آبائی علاقوں کی ترقی، خوشحالی اور پسماندگی کے خاتمے پر خرچ کر رہے ہیں۔ مظفرآباد کی نواحی یونین کونسل سیری درہ میں بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں نے کروڑوں روپے کی لاگت سے تعلیم، صحت، عبادات، ہنر سازی اور صاف پانی کی فراہمی جیسے عوامی منصوبے مکمل کروا کر علاقہ مکینوں کی دعائیں سمیٹ لیں۔تفصیلات کے مطابق امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک میں بسنے والے کشمیری اپنی محنت کی کمائی کا بڑا حصہ اپنے آبائی علاقوں کی خوشحالی پر خرچ کر رہے ہیں۔ یونین کونسل سیری درہ چٹھا میں دی کریسنٹ چیریٹی فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام قاضی مجیب اور قاضی لطیف اور انکی ٹیم کی زیرِ نگرانی مقامی سطح پر مسجد اور وسیع عیدگاہ کی تعمیر نے مقامی آبادی کو باعزت انداز میں عبادات کی سہولت فراہم کی ہے۔علاقے میں بنیادی طبی سہولتوں کے فقدان کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایک میڈیکل سینٹر بھی قائم کیا گیا ہے جہاں مستحق مریضوں کو مفت علاج اور ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔ خواتین کو ہنرمند بنانے کے لیے سلائی کڑھائی سمیت مختلف کورسز کروائے جا رہے ہیں تاکہ وہ گھریلو سطح پر روزگار کما سکیں اور باعزت زندگی گزار سکیں۔بچوں کی معیاری تعلیم کے لیے تربیتی سیشنز اور کلاسز کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے جبکہ بیواؤں، یتیموں، نادار اور معذور افراد کے لیے ہر ماہ راشن کی تقسیم اور مالی امداد بھی جاری ہے۔ علاقہ مکینوں کی دیرینہ شکایت پر صاف پانی کی قلت کو دور کرنے کے لیے واٹر سپلائی اسکیم سمیت دیگر رفاہی منصوبے بھی پایہ تکمیل کو پہنچ رہے ہیں۔یونین کونسل سیری درہ کے گورنمنٹ ہائیر اسکینڈری سکول میں بچے کئی برسوں تک بغیر چھت اور بغیر فرنیچر کے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور تھے۔ بارش ہو یا دھوپ، بچے زمین پر بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ قاضی برادران نے اپنی مدد آپ کے تحت اس اسکول کی جدید عمارت تعمیر کروا کر دی، معیاری فرنیچر فراہم کیا اور اب بچے عزت و وقار کے ساتھ کلاس رومز میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ جبکہ ٹی سی ایف کے تحت قائم سکول میں عالمی معیار کے مطابق تعلیمی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، بچوں کو مفت کتابیں، کاپیاں اور دیگر ضروری سامان دیا جاتا ہے جبکہ غریب بچوں کی مکمل فیس معاف ہے۔ صاحبِ حیثیت خاندانوں سے بھی انتہائی معمولی فیس لی جاتی ہے تاکہ بچوں کی عزتِ نفس متاثر نہ ہو۔اسی یونین کونسل کے چار سے پانچ دیہات میں خوبصورت اور کشادہ مساجد تعمیر کی گئی ہیں، جو مقامی لوگوں کے لیے عبادات کے لیے مثالی سہولت فراہم کر رہی ہیں۔ ان مساجد میں نماز جمعہ، دینی تعلیم اور دیگر مذہبی سرگرمیوں کا باقاعدہ اہتمام کیا جا رہا ہے۔دی کریسنٹ چیریٹی فاؤنڈیشن کے تعاون سے علاقے میں ایک میڈیکل سینٹر بھی قائم ہے جہاں مستحق مریضوں کو مفت علاج اور ادویات فراہم کی جاتی ہیں۔ مقامی سطح پر خواتین کے لیے سلائی کڑھائی اور دستکاری کے مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں جہاں سینکڑوں خواتین جدید ہنر سیکھ کر اپنے پاؤں پر کھڑی ہو رہی ہیں۔علاقے کے یتیم بچوں، بیواؤں، نادار اور معذور افراد کے لیے ہر ماہ باقاعدگی سے راشن اور مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ واٹر سپلائی اسکیم کے تحت پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا دیرینہ مسئلہ بھی حل کیا جا رہا ہے اور اب درجنوں گھروں تک صاف پانی پہنچایا جا رہا ہے۔مقامی عمائدین اور عوام نے قاضی مجیب، قاضی لطیف اور ان کی پوری ٹیم سمیت ان تمام کشمیریوں کا شکریہ ادا کیا ہے جو دیارِ غیر میں رہتے ہوئے بھی اپنی دھرتی کو فراموش نہیں کر سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومتِ آزاد کشمیر کو چاہیے کہ ان خدمت گزار افراد کی خدمات کا باقاعدہ اعتراف کرے، انہیں سرکاری اعزازات سے نوازے اور ان کے جاری منصوبوں کے لیے بھرپور تعاون فراہم کرے تاکہ دیگر مخیر حضرات بھی اس کارِ خیر میں شامل ہوں اور دور دراز علاقوں سے غربت اور محرومی کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان رفاہی منصوبوں سے علاقے کی سماجی و معاشی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اب امید ہے کہ دیگر پسماندہ علاقوں کے باسیوں تک بھی یہ سلسلہ پھیلایا جائے گا۔ قاضی برادران نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ان کا مقصد صرف خدمت ہے اور وہ آئندہ بھی اپنے علاقے کی بہتری کے لیے ایسے منصوبے جاری رکھیں گے۔مقامی عمائدین نے قاضی مجیب، قاضی لطیف اور ان کی پوری ٹیم سمیت ان تمام کشمیریوں کا شکریہ ادا کیا ہے جو دیارِ غیر میں رہتے ہوئے بھی اپنی دھرتی سے محبت کا حق ادا کر رہے ہیں۔ عوام نے حکومتِ آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ ان خدمت گزار افراد کو حکومتی سطح پر اعزازات سے نوازا جائے اور ان کے مشن کو مزید پھیلانے میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے تاکہ محرومی اور پسماندگی کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

Categories

At vero eos et accusamus et iusto odio digni goikussimos ducimus qui to bonfo blanditiis praese. Ntium voluum deleniti atque.

Melbourne, Australia
(Sat - Thursday)
(10am - 05 pm)